خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے متعلق مبینہ جعلی نوٹیفکیشن اور پوسٹ بے نقاب

خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے متعلق مبینہ جعلی نوٹیفکیشن اور پوسٹ بے نقاب

پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی محکمہ صحت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض پوسٹس اور نوٹیفکیشنز کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ہیلتھ کارڈ پروگرام اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) کی پالیسی سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق، محکمہ صحت خیبر پختونخوا سے منسوب ایک مبینہ نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کی ایم ٹی آئی پالیسی بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ یہ دستاویز 12 اکتوبر 2026 کی تاریخ اور نوٹیفکیشن نمبر SO(H)/1523/2026 کے ساتھ سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔

فیکٹ چیک کے مطابق مذکورہ نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یہ دستاویز سرکاری ذرائع پر دستیاب نہیں تھی اور اسے من گھڑت قرار دیا گیا۔

اسی طرح انسائٹ پاکستان سے منسوب ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہیلتھ ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کی تحقیقات کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ تاہم، فیکٹ چیک میں اس دعوے کی بھی تردید کی گئی اور پوسٹ کو جعلی قرار دیا گیا۔

یہ واقعات سوشل میڈیا پر سرکاری شخصیات اور اداروں سے منسوب معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ کسی نوٹیفکیشن یا بیان کو درست تسلیم کرنے سے پہلے متعلقہ سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔

More News