مشرق وسطیٰ کی جنگ، بحری راستوں کی بندش سے سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور اہم بحری راستوں کی بندش کے خدشات کے باعث پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس بحران پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں گیس کی درآمد اور فراہمی کے نظام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی گیس کے ساتھ درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر بھی انحصار کرتا ہے۔ عالمی منڈی سے ایل این جی کی ترسیل کے لیے سمندری راستے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے خطے میں جنگ یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ توانائی کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
سردیوں میں ملک بھر میں گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے زیادہ گیس درکار ہوتی ہے، جبکہ صنعتی اور تجارتی شعبوں کی ضروریات بھی برقرار رہتی ہیں۔ اگر اس دوران درآمدی گیس کی فراہمی متاثر ہو یا اس کی دستیابی میں کمی آئے تو طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں عالمی حالات کا اثر صرف گیس کی دستیابی تک محدود نہیں رہتا بلکہ درآمدی اخراجات اور قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جنگ کے باعث سمندری راستوں پر خطرات بڑھنے، جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے یا بیمہ اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے سے توانائی کی درآمد مہنگی ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس کی طلب اور دستیاب وسائل کے درمیان فرق پہلے ہی ایک اہم چیلنج رہا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہونے کا امکان حکام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، ممکنہ بحران کی شدت کا انحصار درآمدی معاہدوں، مقامی گیس کی پیداوار، ذخیرہ شدہ وسائل اور عالمی منڈی کی صورتحال پر ہوگا۔
ماہرین کے نزدیک توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی، متبادل ذرائع کی دستیابی اور طلب کے مؤثر انتظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ سردیوں سے قبل گیس کی متوقع طلب اور دستیاب رسد کا جائزہ لیں۔
فی الحال گیس بحران کے خدشے کو ممکنہ صورتحال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی تصدیق اور شدت کے بارے میں حتمی اندازہ متعلقہ حکام کے اعدادوشمار اور عالمی توانائی کی ترسیل کی صورتحال سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔








