پشاور اسکول حادثہ: پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے
پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، حفاظتی معائنے اور انتظامی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے حوالے سے عوامی حلقوں میں سوال کیا جا رہا ہے کہ اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی مرمت، حفاظتی اقدامات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو کس حد تک ترجیح دی گئی۔
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں حفاظتی معائنے، مؤثر نگرانی اور عمارتوں کی بروقت مرمت کا نظام موجود تھا تو اس پر کس حد تک عمل درآمد کیا گیا؟ خطرناک عمارتوں کی نشاندہی اور طلبہ کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
اس واقعے کے بعد سابقہ صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں، ترقیاتی اخراجات اور انتظامی کارکردگی کے احتساب کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے محض اعلانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور مؤثر نگرانی ضروری ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کا جامع حفاظتی آڈٹ کیا جائے، خطرناک عمارتوں کی فوری مرمت یقینی بنائی جائے اور حادثے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
تعلیمی اداروں میں بچوں کا تحفظ حکومت اور متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔








