سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک، 2 فرار
سوات: محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ڈسٹرکٹ پولیس نے سوات کے علاقے سخاڈوب، تھانہ کانجو کی حدود میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تین مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔
سی ٹی ڈی سوات ریجن کی جانب سے 15 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر مظفر عرف خالد گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تخریبی کارروائیوں کی غرض سے سیگرام، لعلو بانڈہ اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔
اطلاع کی بنیاد پر سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ پولیس حکام کے مطابق اہلکاروں کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔ فائرنگ کا تبادلہ رکنے کے بعد قریبی مکان کی تلاشی کے دوران تین دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
ہلاک دہشت گردوں کی شناخت عبداللہ ولد سید بشر، منصور علی ولد عبدالمطلب اور غفران اللہ ولد افضل خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ تینوں کا تعلق ضلع سوات سے بتایا گیا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق کارروائی کے دوران تین کلاشنکوف، چھ میگزین، متعدد کارتوس، ایک گیس سلنڈر، کھانے پینے کے برتن، تھانہ شکردرہ کا نقشہ اور ایک ڈائری بھی برآمد کی گئی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد رواں سال فائرنگ کے متعدد واقعات اور سلیم اللہ عرف ساجد نیلا گرام کی ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف دہشت گردی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔
فرار ہونے والے دو دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔








