مصنوعی ذہانت برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے نیا خطرہ، دہشت گرد حیاتیاتی ہتھیار بنا سکتے ہیں، ایم آئی فائیو سربراہ
برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میکولم نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد گروہ اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہلک حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
سر کین میکولم نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ جدید ٹیکنالوجی جہاں مختلف شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق خطرات خاص طور پر حساس نوعیت کے ہیں، کیونکہ ان کا استعمال انسانی زندگی اور صحت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرناک معلومات تک رسائی اور ان کے ممکنہ غلط استعمال کو کس طرح روکا جائے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو سائبر حملوں، گمراہ کن معلومات کی تیاری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیے جانے کے خدشات بھی زیر بحث ہیں۔
برطانوی خفیہ اداروں کے لیے دہشت گردی کے خطرات کی نگرانی اور ممکنہ حملوں کی روک تھام اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر ان اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کی شناخت، معلومات کے تبادلے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون پر توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
ماہرین کے نزدیک مصنوعی ذہانت کے فوائد سے استفادہ کرنے کے ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی، مناسب قوانین اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہیں۔ تاہم ایم آئی فائیو سربراہ کے بیان میں بیان کردہ خدشات ممکنہ خطرات سے متعلق ہیں؛ انہیں اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ دہشت گردوں نے بالفعل اے آئی کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرلیے ہیں۔








