دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے، خیبر پختونخوا کو جلتا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے: وزیراعظم
پشاور: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو جلتا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے مجبوری کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات ناگزیر تھے۔
اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور امن کے قیام کے لیے متعلقہ اداروں کے کردار پر بھی توجہ دی گئی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔
خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہے ہیں۔ صوبے میں امن کی بحالی عوامی تحفظ، معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کو صوبے میں امن و استحکام کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے عملی نتائج کا انحصار پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد، سکیورٹی صورت حال اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون پر ہوگا۔
اجلاس کے حوالے سے سامنے آنے والے بیان میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی صورت حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔








