اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 0.5 فیصد اضافہ کردیا، پالیسی ریٹ 12 فیصد ہوگیا

اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 0.5 فیصد اضافہ کردیا، پالیسی ریٹ 12 فیصد ہوگیا

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو کراچی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد فیصلے کا اعلان کیا۔ کمیٹی نے ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی کے امکانات اور عالمی منڈی میں تیل سمیت توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی حالات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں اضافے کا فیصلہ کیا۔ فیصلے کے حق میں کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن کی رائے مختلف تھی۔

شرحِ سود میں اضافے سے بینکوں کے قرضوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صارفین کے مالی اخراجات پر پڑنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی سے متعلق فیصلہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس سے قبل 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ حالیہ فیصلے کے بعد مرکزی بینک کی بنیادی شرحِ سود 12 فیصد ہوگئی ہے۔

More News