ایران امریکا جنگ دوبارہ چھڑنے کا خدشہ، پاکستان اور چین کا بڑی تباہی سے متعلق انتباہ
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے پیش نظر پاکستان اور چین نے خبردار کیا ہے کہ نئی فوجی کارروائی خطے اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ دونوں ممالک نے ایران کے جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے چینی مندوب نے کہا کہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے اور عالمی معیشت کو درپیش مشکلات مزید سنگین ہوجائیں گی۔ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری معاملے پر دہرے معیار کو ترک کیا جائے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے بھی ایران کے جوہری مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں مذاکرات کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور تمام فریقوں کو کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
عثمان جدون کے مطابق ایران کے جوہری تنازع کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تکنیکی دائرہ کار میں حل کرنے کے لیے ادارے کو بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ایران کے خلاف محدود مگر شدید فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر غور کرسکتے ہیں۔ ان رپورٹس میں ایران کی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف قرار دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی ممکنہ کارروائی کی تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم، ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق ان دعوؤں کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔ موجودہ صورت حال میں سفارتی کوششیں خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔








