خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کے مسائل کا حل، وائس چانسلرز کانفرنس میں اہم فیصلے
تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار، منشیات کے خاتمے، شفاف مالیاتی نظام اور تحقیق کے معیار میں بہتری پر زور
پشاور:خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے پشاور میں وائس چانسلرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان کے حل کے لیے اہم فیصلے اور سفارشات مرتب کی گئیں۔
بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبرپختونخوا کی پالیسی کے تحت منعقدہ اس خصوصی کانفرنس میں جامعہ پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی، سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم اور صوبے کی مختلف سرکاری جامعات کے سربراہان نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ تھے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ سرکاری جامعات کو درپیش مسائل اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے جامعات میں منشیات کے استعمال کی روک تھام اور طلبہ کو مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
ڈاکٹر عامر عبداللہ کا کہنا تھا کہ جامعات میں مالیاتی نظام کو شفاف بنانے، داخلی آڈٹ کے نظام کو مضبوط کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے تحقیق کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس کے دوران مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے، جنہوں نے جامعات کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی مسائل کا جائزہ لے کر ان کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل سفارشات مرتب کیں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ جامعات میں انتظامی اصلاحات، بہتر مالیاتی منصوبہ بندی، معیاری تدریس، تحقیق کے فروغ اور طلبہ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
کانفرنس میں شریک حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکاری جامعات کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔








