پاکستان ہماری ریڈ لائن، کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے: مولانا محمد طیب قریشی

پاکستان ہماری ریڈ لائن، کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے: مولانا محمد طیب قریشی

ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاک فوج پر قوم کو فخر، داخلی اتحاد وقت کی ضرورت

خبر:

خیبر پختونخوا کے چیف خطیب مولانا محمد طیب قریشی نے کہا ہے کہ دشمن اندرونی ہو یا بیرونی، یہ بات واضح طور پر سن لے کہ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا کے حالات جیسے بھی ہوں، پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ حکمت عملی کے باعث پاکستان عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔

مولانا طیب قریشی کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے مثبت کردار کو ایران سمیت اسلامی ممالک نے سراہا، تاہم کچھ عناصر اس صورتحال کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے مسلک کے نام پر ملک میں افراتفری، دنگہ فساد اور گلگت بلتستان میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسالک کو پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت گروہ بندی کا نہیں بلکہ ایک قوم بننے کا ہے۔

انہوں نے سیاسی اور مذہبی قیادت پر زور دیا کہ وہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے اندر سیاسی اور مسلکی ہم آہنگی کو فروغ دیں اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں۔

مولانا طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اپنے فیصلے مکمل طور پر قومی مفاد میں کرتی ہے، کسی دباؤ یا دھمکی کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل نہیں دی جاتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج قوم کا فخر ہیں اور پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملکی سرحدوں کا دفاع کرنے والے جوان ہمارے قومی ہیرو ہیں جنہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم کے حقیقی محسن ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، پاکستان کا دوست ہمارا دوست اور دشمن ہمارا دشمن ہے۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عالم اسلام میں حرمین شریفین کے دفاع کی ذمہ داری عطا کی، جو ایک عظیم اعزاز ہے۔

More News