پشاور ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواستیں لارجر بینچ کے سامنے رکھنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواستیں لارجر بینچ کے سامنے رکھنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیس چیف جسٹس کے سامنے رکھنے اور درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

درخواست پر سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق گورنر سمیت دیگر حکام میڈیا پر اعتراف کر چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ آئی جی پولیس کو حکم دیا جائے کہ سہیل آفریدی کو عدالت میں پیش کریں۔

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ صوبائی قانون کے تحت رکن اسمبلی کو اس طرح گرفتار نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اسپیکر کو بھی قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اسی روز رپورٹ موصول ہوئی ہے اور پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈپٹی کمشنرز سے بھی رپورٹس طلب کی گئی ہیں، جس کے لیے تین دن کی مہلت دی جائے۔

جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے معاملے سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ ہونا چاہیے۔ عدالت نے حکومتی جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کیس چیف جسٹس کے سامنے رکھنے اور لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

More News