ایلون مسک کے 44 کروڑ ڈالر بھی ریپبلکنز کو مطلوبہ انتخابی کامیابی نہ دلا سکے

ایلون مسک کے 44 کروڑ ڈالر بھی ریپبلکنز کو مطلوبہ انتخابی کامیابی نہ دلا سکے

امریکی وسط مدتی انتخابات میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی بھاری مالی معاونت بھی ریپبلکن امیدواروں کے لیے خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ مسک نے انتخابی مہمات اور سیاسی کمیٹیوں پر مجموعی طور پر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جن میں زیادہ تر رقم ریپبلکن امیدواروں اور انتخابی گروپس کو فراہم کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے اپنی سیاسی کمیٹی کے علاوہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ریپبلکن انتخابی گروپس کو بھی بھاری فنڈنگ دی۔ انہوں نے انتخابی سرمایہ کاری کے لیے ٹیکساس کو مرکزی میدان بنایا، جہاں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مرکزی دفاتر بھی قائم ہیں۔

مسک نے صرف ستمبر کے مہینے میں ریپبلکن سینیٹ کمیٹی کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔ یہ رقم ٹیکساس کے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والی کمیٹی کو دی گئی، جبکہ ان کی سیاسی کمیٹی نے ڈیموکریٹک امیدوار کے خلاف انتخابی سرگرمیوں پر 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے ٹیکساس میں انتخابی سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم لگائی، تاہم بھاری مالی سرمایہ کاری کے باوجود ریپبلکنز کو مطلوبہ انتخابی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ انتخابی مہمات میں بھاری مالی وسائل کی فراہمی بھی ووٹروں کی حمایت اور انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

More News