ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید کی کرن، بغیر انسولین شوگر کنٹرول کرنے والی ڈیوائس تیار

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید کی کرن، انسولین کے بغیر شوگر کنٹرول کرنے والی ڈیوائس تیار

سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں کی نئی ایجاد، جسم میں نصب ہونے والی وائرلیس ڈیوائس بجلی کی مدد سے اضافی گلوکوز کو خارج کرنے میں مدد دے گی، چوہوں پر کامیاب تجربات

سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ذیابیطس کے علاج کے حوالے سے ایک جدید تجرباتی ڈیوائس تیار کی ہے، جو جسم میں نصب کیے جانے کے بعد بجلی کی مدد سے خون میں شوگر کی سطح کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں ایک نئی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ ڈیوائس سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین نے تیار کی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ آلہ خون میں موجود اضافی گلوکوز کو ایک کیمیائی عمل کے ذریعے گلوکونیٹ میں تبدیل کرتا ہے، جسے بعد ازاں گردے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ اس طرح جسم میں شوگر کی اضافی مقدار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے اس ڈیوائس کو وائرلیس ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اسے خون میں شوگر کی سطح مسلسل مانیٹر کرنے والے نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جس کی مدد سے جسم میں گلوکوز کی مقدار کے مطابق اس کی سرگرمی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے گئے تجربات میں ڈیوائس نے شوگر کی سطح کو خودکار انداز میں کنٹرول کرنے کے مثبت نتائج دکھائے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ نظام خون میں گلوکوز کی مقدار کم کرنے کے ساتھ جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے استعمال کو بھی بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس پیش رفت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے ذیابیطس اور موٹاپے جیسے دو بڑے طبی مسائل کو بیک وقت کنٹرول کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر مزید تحقیق میں اس کے نتائج مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتے ہیں تو مستقبل میں ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک نیا طریقہ سامنے آ سکتا ہے۔

تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈیوائس ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اب تک اس کے نتائج چوہوں پر حاصل کیے گئے ہیں۔ انسانوں میں اس کی افادیت، حفاظت اور ممکنہ مضر اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور باقاعدہ کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی نئی طبی ٹیکنالوجی کو عام مریضوں کے استعمال کے لیے متعارف کرانے سے پہلے اس کی طویل المدتی حفاظت اور کامیابی ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے فی الحال اس ڈیوائس کو انسولین کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا اور ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر موجودہ علاج میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔

More News