پشاور ہاؤسنگ اسکینڈل: اٹک اور صوابی میں ملزمان کی 345 کنال اراضی منجمد کرنے کا حکم

پشاور ہاؤسنگ اسکینڈل: اٹک اور صوابی میں ملزمان کی 345 کنال اراضی منجمد کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے نجی ٹاؤن ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملزمان کی اٹک اور صوابی میں موجود جائیدادیں منجمد کرنے کی نیب کی درخواست منظور کرلی ہے۔ عدالت نے دونوں اضلاع میں واقع 345 کنال اراضی منجمد کرنے کی توثیق کر دی۔

کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد حامد مغل نے کی۔ سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر بغیر این او سی بحریہ پشاور کے نام سے ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی اور 91 ہزار فارم فروخت کرکے شہریوں سے 6 ارب 40 کروڑ روپے اکٹھے کیے۔

نیب پراسیکیوٹر کے مطابق اسکینڈل میں نامزد چاروں ملزمان مختلف رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے مالکان ہیں۔ نیب کی تحقیقات کے دوران ملزمان کی صوابی اور اٹک میں 345 کنال اراضی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد ان اثاثوں کو منجمد کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں اضلاع میں ملزمان کی جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔

نیب پراسیکیوٹر کے مطابق احتساب عدالت اس سے قبل بھی اسی کیس میں پشاور اور نوشہرہ میں ساڑھے 7 ہزار کنال اراضی منجمد کر چکی ہے۔

More News