ریڈیو پاکستان کیس، 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز کے گرد گھیراؤ سخت، اے ٹی سی کا بڑا حکم سامنے آ گیا

ریڈیو پاکستان حملہ کیس، 9 مئی کے مقدمے میں اہم پیش رفت، اے ٹی سی کا بڑا حکم

کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم عدالت میں پیش، عبوری ضمانتوں میں 11 نومبر تک توسیع، پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف چالان جمع کرا دیا

پشاور میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نامزد ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 11 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کے خلاف چالان جمع کرائے جانے کے بعد مقدمے کی کارروائی مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر نامزد ملزمان کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عامر چمکنی پیشی کے موقع پر غیر حاضر رہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق دائر عبوری ضمانت کی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی ضمانتوں میں 11 نومبر تک توسیع کر دی۔ اس سے قبل عدالت نے گزشتہ سماعت پر ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں آج کی تاریخ تک توسیع کی تھی۔

دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف شواہد پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ وکیل کے مطابق گزشتہ پیشی پر عدالت نے عبوری ضمانتوں میں توسیع دیتے ہوئے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کی تھی، تاہم چالان جمع ہونے کے بعد مقدمے میں قانونی کارروائی کا اگلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، عرفان سلیم، عامر چمکنی اور تیمور سلیم جھگڑا سمیت پانچ اہم سیاسی شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان شخصیات کے خلاف 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور پرتشدد واقعات سے متعلق الزامات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

سماعت کے دوران ایک اور اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ریڈیو پاکستان کی جانب سے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے بھی عدالت میں اپنا باضابطہ وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ضمنی چالان میں نامزد سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی میں فریق کی حیثیت سے پیش ہونے کا عمل مکمل کیا۔

واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن میں پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور تحقیقات کا آغاز ہوا۔

تازہ عدالتی پیش رفت کے بعد اب 11 نومبر کی سماعت اہمیت اختیار کر گئی ہے، جہاں مقدمے کی مزید کارروائی اور ملزمان کی عبوری ضمانتوں سے متعلق آئندہ لائحہ عمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ تاہم مقدمے میں نامزدگی یا الزامات کا سامنا کرنا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، حتمی فیصلہ عدالت شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کرے گی۔

More News