خیبرپختونخوا میٹرک امتحانات میں پیپر لیک سکینڈل: چار اساتذہ معطل، تحقیقات جاری
پشاور: ویب ڈیسک
خیبرپختونخوا میں جاری میٹرک امتحانات کے دوران پیپر لیک ہونے کے معاملے نے سنجیدہ صورت اختیار کر لی ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملاکنڈ نے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے پیپر لیک کرنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ صوبے کے محکمہ تعلیم نے بورڈ پیپر لیک ہونے کے الزام میں چار اساتذہ کو معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے چئیرمین کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے کی گئی
مالاکنڈ بورڈ حکام کے مطابق امتحانات کے دوران پرچے لیک ہونے اور حل شدہ مواد کی دستیابی کی شکایات موصول ہونے پر فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ابتدائی چھان بین کے بعد مخصوص واٹس ایپ گروپس کی نشاندہی ہوئی جہاں نہ صرف سوالیہ پرچے بلکہ حل شدہ مواد بھی امتحان سے قبل یا دوران امتحان شیئر کیا جا رہا تھا جبکہ اس مواد کو باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر فروخت بھی کیا جا رہا تھا، جو امتحانی نظام کی شفافیت کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا گیا
بورڈ نے اس سلسلے میں چار افراد کو نامزد کیا ہے عنایت اللہ عرف شہاب اور وحید شاہ عرف سلمیٰ جو باجوڑ کے رہائشی اور گروپ کے مالکان ہیں جبکہ زویان ملک اور حمزہ خان ایڈمنز کے طور پر شناخت کیے گئے ہیں۔ بورڈ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی پشاور، ریجنل پولیس آفس سیدو شریف سوات اور ڈسٹرکٹ پولیس آفس باجوڑ کو مراسلے بھیجے ہیں جن میں ملزمان کے خلاف فوری اور جامع انکوائری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مراسلوں کے ساتھ مبینہ ملزمان کے خلاف سکرین شاٹس اور دیگر شواہد بھی فراہم کیے گئے ہیں
بورڈ حکام کے مطابق امتحانات کے آغاز کے فوراً بعد پیپر لیک ہونے کی شکایات سامنے آئیں جس کے بعد پورے نیٹ ورک کو ٹریس کیا گیا۔ صوبے کے تمام امتحانی مراکز کے سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ امتحانی ہالز میں موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے
پشاور تعلیمی بورڈ کے تحت جاری امتحانات میں بھی تشویشناک صورتحال سامنے آئی جہاں اردو کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی امتحانی مراکز سے باہر پہنچ گیا۔ بعض علاقوں میں حل شدہ پیپر اور ایم سی کیوز فوٹو سٹیٹ دکانوں اور انٹرنیٹ کیفوں پر بھی دستیاب تھے اسی طرح اسلامیات کے پرچے کے ساتھ بھی پہلے ایسا ہی واقعہ سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپر لیک کا عمل تسلسل اختیار کر چکا ہے
خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم نے بورڈ پیپر لیک ہونے کے الزام میں چار اساتذہ کو معطل کر دیا ہے۔ معطل اساتذہ میں شامل ہیں محمد ارشد علی، حمایوں خان، خلیل الرحمٰن اور عبدالحمید۔ سکریٹری تعلیم نے ان اساتذہ کو فوری طور پر 120 دنوں کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ اقدام خیبرپختونخوا گورنمنٹ سروس ایکٹ 2011 کے قاعدہ نمبر 6 کے تحت کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں باقاعدہ تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی
ماہرین تعلیم اور تعلیمی حلقے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ بورڈ انتظامیہ اور صوبائی حکومت اس معاملے میں متحرک ہیں تاہم حالیہ انکشافات نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں








