فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنے کی پابندی غیرقانونی قرار

فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنے کی پابندی غیرقانونی قرار، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنے کی پابندی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کی پنشن مسترد کرنے کے احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ عدالت نے تین بیٹیوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو 60 روز میں درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لینے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے زاہدہ یاسمین کی درخواست پر 20 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون میں لفظ ’’فیملی‘‘ استعمال کیا گیا ہے، اسے صرف ’’شریک حیات‘‘ تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق پنشن حکومت کی مہربانی نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے، جبکہ قواعد و ضوابط اصل قانون سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام قانون کی تشریح کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار کو محدود نہیں کر سکتے۔ غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کی پنشن کی درخواستیں محض اس بنیاد پر مسترد کرنا کہ فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر کو مل سکتی ہے، قانونی طور پر درست نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ خزانہ کی جانب سے 30 مئی 2025 کو جاری کی گئی وضاحت کو اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ اس کے علاوہ دسمبر 2024 اور اگست 2025 کے نوٹیفکیشن بھی متاثرہ حد تک کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں سپریم کورٹ کے کنول رشید کیس کا بھی حوالہ دیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ایک پنشن وصول کرنا کسی دوسری پنشن سے محرومی کی خودکار وجہ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح صرف بیٹی ہونے یا دوسری پنشن ملنے کو بھی پنشن کے لیے نااہلی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ درخواستوں کا 60 روز کے اندر دوبارہ جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اس فیصلے سے فیملی پنشن کے مستحقین کے تعین اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم قانونی وضاحت سامنے آئی ہے۔

More News