یمنی حوثیوں نے باب المندب بند کرنے کی دھمکی دے دی

یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھانے والا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اہم عالمی آبی گزرگاہ باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی خلیجی خطہ شدید تناؤ کا شکار ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حوثی حکام کے مطابق اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا اور خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو وہ باب المندب کو بند کرنے جیسے سخت اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے اور عالمی تجارت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر عالمی قوتیں امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی رہیں، خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں جیسے اقدامات جاری رہے، تو وہ اس اہم سمندری راستے کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایک بار باب المندب بند کر دیا گیا تو اسے دوبارہ کھولنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

باب المندب ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔ یہ راستہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بے شمار تجارتی سامان اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس کا بند ہونا عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک بار پھر اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاسداران انقلاب کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ ایران سے متعلق جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں گزرگاہیں متاثر ہوئیں تو عالمی سپلائی چین کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف تیل بلکہ خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً 30 فیصد تیل کی ترسیل انہی سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔ اگر یہ راستے بند ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایک بڑے جیوپولیٹیکل بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طاقت کے مظاہرے خطے کو ایک خطرناک سمت میں لے جا سکتے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بیانات دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، جس کا مقصد عالمی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ تاہم اس کے باوجود خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

خطے کے ممالک بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے بحری بیڑوں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

عوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ لوگ ممکنہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ بحران ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ عالمی امن کس قدر نازک ہے اور کس طرح علاقائی تنازعات عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے نہ صرف جغرافیائی بلکہ اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے بھی بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا محفوظ اور کھلا رہنا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اگر موجودہ کشیدگی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والے دنوں میں دنیا کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

More News