حکومت کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی برآمدات بڑھانے اور انہیں آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لیے 300 ارب روپے کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم مختص کردی ہے۔ نئی اسکیم کے تحت زرعی شعبے سے وابستہ اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی مالی معاونت حاصل کرسکیں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی ہدایات پر ایکسپورٹ فنانس اسکیم کا دائرہ کار محدود کرتے ہوئے اسے صرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے کاروباری اداروں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے جو محدود وسائل کے باعث اپنی پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرپاتے۔
حکومتی پالیسی کے تحت 300 ارب روپے کی مختص رقم کے ذریعے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس اسکیم سے چھوٹے کاروباری اداروں کو اپنی ضروریات پوری کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر کاروبار کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مقررہ تعریف اور شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔ قرض کے حصول کے لیے درخواست دینے والے اداروں کی اہلیت کا تعین اسی معیار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
نئی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی نئے قرض لینے والوں سے متعلق بھی کی گئی ہے۔ اس سے قبل نئے قرض حاصل کرنے کے خواہش مند کاروباروں کے لیے الگ کیٹیگری موجود تھی، تاہم اب اس سہولت کو ختم کردیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے قرض کے درخواست گزاروں کو بھی ایس ایم ایز کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
اس فیصلے کے بعد قرضوں کی فراہمی کے لیے تمام درخواست گزاروں کا جائزہ ایک ہی طے شدہ معیار کے تحت لیا جائے گا۔ اس طرح اسکیم کے دائرہ کار کو واضح کرنے اور مالی معاونت کو مخصوص کاروباری طبقے تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایگزم بینک نے اسکیم میں شریک کمرشل بینکوں کو نئی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ بینکوں کو قرضوں کی درخواستوں اور اہلیت کے تعین میں مقررہ شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
حکومتی اقدام کو ملکی برآمدات میں اضافے اور چھوٹے کاروباری شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم اسکیم کی کامیابی کا انحصار قرضوں کی بروقت فراہمی، شفاف طریقہ کار اور اہل کاروباروں تک اس سہولت کی مؤثر رسائی پر ہوگا۔








