وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ہوئی۔ اس اہم ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈپلومیٹک انکلیو میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے امریکی سفیر کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے کیے گئے سیکیورٹی پلان سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی معزز مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔
محسن نقوی نے اس موقع پر اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کامیاب رہے گا اور اس کے مثبت اثرات پورے خطے میں امن و استحکام کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہم اور مخلصانہ ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی اعتماد کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
ملاقات میں دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے جن میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن شامل تھے۔ ان حکام نے بھی سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں پر بریفنگ دی۔
یہ ملاقات نہ صرف پاک امریکا تعلقات کی مضبوطی کی عکاس ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن مذاکرات کے انعقاد میں ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معاشی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔








