مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج، موہالی میں کشیدگی
بھارت میں کسان ایک بار پھر حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ حالیہ احتجاجی مظاہرہ ریاست پنجاب کے شہر موہالی میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسان ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ کسان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی معاشی اور زرعی پالیسیوں نے کسانوں اور مزدوروں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹیلی گراف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر سے کسان بڑی تعداد میں موہالی پہنچے تھے۔ ان کا ارادہ ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ کرنا تھا تاکہ اپنے مطالبات حکام بالا تک پہنچا سکیں۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ موجودہ زرعی نظام میں انہیں فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، جبکہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی معاشی حالت دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
احتجاج کے دوران صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب چندی گڑھ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے نہ صرف طاقت کا استعمال کیا بلکہ متعدد کسانوں کو حراست میں بھی لے لیا۔ کسان رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
کسان تنظیموں کے مطابق ان کے بنیادی مطالبات میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت، دریائی پانی کی تقسیم سے متعلق تنازعات کا حل، زرعی قرضوں میں ریلیف، اور بجلی و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی موجودہ پالیسیاں بڑے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔
دی ٹیلی گراف انڈیا کی رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ کسانوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی شعبے میں بے چینی تاحال ختم نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ برسوں میں بھی زرعی قوانین کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے تھے، جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔ اگرچہ حکومت نے بعض متنازع قوانین واپس لے لیے تھے، تاہم کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنی تحریک کو مزید وسیع کریں گے اور دیگر ریاستوں کے کسانوں کو بھی شامل کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو نظر انداز کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہوگا۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم بعض حکام کا کہنا ہے کہ قانون و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات اور مؤثر مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان بامعنی مذاکرات نہ ہوئے تو یہ احتجاجی سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف پنجاب بلکہ پورے بھارت کی سیاست اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر موہالی میں ہونے والا یہ احتجاج اس بات کا مظہر ہے کہ کسان برادری اپنے حقوق کے لیے متحد اور سرگرم ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت کسانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے یا ملک ایک بار پھر طویل احتجاجی تحریک کی طرف بڑھتا ہے۔








