خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں باوقار ماہواری سہولیات، بچیوں کی تعلیم کا خاموش بحران
تحریر: جنید طورو
خیبر پختونخوا میں بچیوں کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے عموماً اسکولوں کی کمی، غربت، فاصلے، اساتذہ کی عدم دستیابی اور سماجی رویوں کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر ایک نہایت اہم مسئلہ اکثر خاموشی میں دبا رہتا ہے: اسکولوں میں ماہواری کے دوران باوقار، اور محفوظ سہولیات کی عدم موجودگی۔
ماہواری کوئی بیماری یا شرمندگی نہیں، بلکہ ایک فطری جسمانی عمل ہے۔ لیکن جب ایک لڑکی کے اسکول میں صاف بیت الخلا، پانی، صابن، نجی جگہ، مناسب معلومات، ہنگامی ماہواری مصنوعات اور محفوظ تلفی کا نظام موجود نہ ہو تو یہی فطری عمل اس کی تعلیم میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
موجودہ معلومات کے مطابق محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے تحت عالمی بینک کے تعاون سے بعض اضلاع میں ماہواری معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جن میں ہری پور، صوابی، پشاور، بٹگرام، تورغر، دیر بالا، شانگلہ، کوہستان بالا، کوہستان زیریں، کولئی پالس، کرک اور بنوں شامل ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کی کوریج، معیار، تسلسل اور اثرات کا مؤثر جائزہ لینا ضروری ہے۔ صرف ماہواری مصنوعات کی فراہمی کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ آیا اسکول کا ماحول واقعی بچیوں کے لیے محفوظ، باوقار اور موزوں ہے یا نہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ پاکستان میں ماہواری کے دوران اسکول سے غیر حاضری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق بڑی تعداد میں طالبات ماہواری کے دوران اسکول نہیں جا پاتیں، جبکہ جن اسکولوں میں مناسب سہولیات موجود نہیں ہوتیں وہاں غیر حاضری کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ صورتحال تعلیمی کارکردگی، اعتماد، ذہنی صحت اور بالآخر ڈراپ آؤٹ کی شرح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف مصنوعات کی فراہمی سے حل نہیں ہوگا۔ اگر اسکول میں پانی نہیں، بیت الخلا غیر محفوظ یا غیر فعال ہیں، دروازے ٹوٹے ہوئے ہیں، صفائی کا انتظام نہیں، استعمال شدہ مصنوعات کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کا نظام موجود نہیں، اور طالبات کو درست معلومات نہیں دی جاتی ، تو صرف پیڈز تقسیم کرنے سے بچیوں کی حاضری اور اعتماد بہتر نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں بڑی تعداد میں لڑکیوں کو پہلی ماہواری سے پہلے اس بارے میں مناسب معلومات نہیں ملتی ۔ خاموشی، شرمندگی اور غلط تصورات کے باعث بہت سی بچیاں خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہواری کو صرف صحت کا نہیں بلکہ تعلیم، وقار، صنفی مساوات اور انسانی حقوق کا مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ کئی سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ صوبے کے متعدد اسکولوں میں پانی، بیت الخلا، بجلی اور چار دیواری جیسی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ماہواری کے دوران بچیوں سے باقاعدہ حاضری اور بہتر تعلیمی کارکردگی کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
چارسدہ کے ایک سرکاری اسکول میں نویں جماعت کی طالبہ عنبرین کہتی ہیں:
“بعض اوقات اسکول میں پانی نہیں ہوتا یا بیت الخلا کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ ایسے دنوں میں بہت سی لڑکیاں اسکول آنے سے گھبراتی ہیں۔ ہمیں صرف پیڈز نہیں بلکہ صاف، محفوظ اور باوقار ماحول بھی چاہیے تاکہ ہم اعتماد کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔”
ماہواری کے حوالے سے ایک اہم پہلو مصنوعات کی قیمت بھی ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسوں کی وجہ سے بہت سے کم آمدنی والے خاندان ماہواری مصنوعات باقاعدگی سے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے بعض لڑکیاں غیر محفوظ متبادل استعمال کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، جو صحت کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ماہواری مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ یہ تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے قابلِ رسائی بن سکیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کو ماہواری سہولیات کو بچیوں کی تعلیم کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ہر گرلز مڈل اور ہائی اسکول میں ماہواری دوست بیت الخلا، مستقل پانی، صابن، نجی تبدیلی کی جگہ، محفوظ تلفی کا نظام، ہنگامی ماہواری مصنوعات، اور صحت و صفائی سے متعلق آگاہی کو لازمی بنایا جانا چاہیے۔ اساتذہ، والدین اور کمیونٹی کی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ ماہواری سے جڑی خاموشی اور شرمندگی کو ختم کیا جا سکے۔
آنے والے صوبائی بجٹ میں ماہواری سے متعلق سہولیات، واش پروگرامز، گرلز اسکول انفراسٹرکچر، اور صحت و صفائی کی تعلیم کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مؤثر نگرانی، شفاف بجٹ سازی اور کمیونٹی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔ اگر حکومت واقعی لڑکیوں کی تعلیم، حاضری اور بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اسکولوں کو صرف عمارتیں نہیں بلکہ محفوظ، صاف، باوقار اور لڑکی دوست تعلیمی ماحول بنانا ہوگا۔
وقت آ گیا ہے کہ ماہواری سے متعلق سہولیات کو بچیوں کی تعلیم، صحت اور وقار کے ایک اہم جزو کے طور پر ترجیح دی جائے تاکہ کوئی بھی بچی صرف سہولیات کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔








