نادرا کا شناختی کارڈ کے اجرا کے قواعد میں بڑا تبدیلی، شہریوں کیلئے نئی سہولت متعارف
اسلام آباد میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے قومی شناختی کارڈ کے اجرا کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے شہریوں کیلئے نئی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کیلئے دستخط فراہم کرنا لازمی نہیں ہوگا بلکہ اسے اختیاری قرار دے دیا گیا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو زیادہ آسان اور سہل خدمات فراہم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے افراد کو ریلیف دینا ہے جو دستخط کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں ناخواندہ افراد، بزرگ شہری اور وہ لوگ شامل ہیں جو جسمانی مسائل یا دیگر وجوہات کے باعث دستخط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
نئے ضابطے کے مطابق اگر کوئی درخواست گزار دستخط فراہم نہیں کرتا تو اس کے شناختی کارڈ پر دستخط کے خانے میں این اے یعنی “لاگو نہیں” درج کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف شناختی کارڈ کے حصول کا عمل آسان ہوگا بلکہ درخواستوں کی تکمیل میں بھی تیزی آئے گی۔
نادرا نے اس موقع پر شہریوں کو سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شہری جعلسازی اور فراڈ سے بچنے کیلئے موبائل ایپلیکیشنز یا غیر مصدقہ ذرائع کے ذریعے اپنے انگوٹھے کے نشانات کی تصاویر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ ایسی تصاویر شناختی تصدیق کیلئے قابل قبول نہیں ہوں گی۔
ترجمان نادرا کے مطابق بعض عناصر شہریوں کو جعلی طریقوں سے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ صرف نادرا کے سرکاری مراکز اور منظور شدہ طریقہ کار پر ہی اعتماد کریں۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا اور ذاتی معلومات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
نادرا کی جانب سے نئے نظام سے متعلق عوامی آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ شہری اس تبدیلی اور اس کے فوائد سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو نئے قواعد، احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نادرا کا یہ اقدام عوامی سہولت میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ہزاروں ایسے افراد کو فائدہ پہنچے گا جو دستخط نہ ہونے کی وجہ سے شناختی دستاویزات بنوانے میں مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ ساتھ ہی یہ اقدام جدید اور محفوظ شناختی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔








