اسلام آباد میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) سے تقریباً 72 ارب روپے کے ونڈ فال منافع کی واپسی کے لیے حکومت نے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری کے پیش نظر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جو توانائی، مالیاتی اصلاحات اور حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق سفارشات تیار کرے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی پٹرولیم ڈویژن کے تحت جاری کراس سبسڈی نظام کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو حاصل ہونے والے تقریباً 72 ارب روپے کے اضافی یا غیر معمولی منافع کو قانونی اور مالیاتی طریقہ کار کے تحت واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ رقم عوامی ریلیف، سبسڈی میں کمی اور مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے دیگر اراکین میں وزیر اقتصادی امور، وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اور وزیر قانون شامل ہیں جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ اور چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ضرورت پڑنے پر مزید ماہرین اور متعلقہ حکام کو بھی شامل کر سکے۔
کمیٹی کو صرف ونڈ فال منافع کی واپسی ہی نہیں بلکہ وسیع مالیاتی امور کا جائزہ لینے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اس میں قومی ترقیاتی اخراجات، وزارتوں کی کارکردگی، اور غیر ضروری منصوبوں پر اخراجات میں کمی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات ازسرنو ترتیب دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
مزید برآں، کمیٹی پاور سیکٹر سے متعلق بین الاقوامی مقدمات اور ثالثی کیسز کا بھی جائزہ لے گی تاکہ ممکنہ مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت ایسے کیسز میں زیادہ توجہ دے گی جہاں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں۔
ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر میں اربوں روپے کے ممکنہ جرمانوں اور گردشی قرضوں کے دباؤ کے باعث حکومت مالی نظم و ضبط کی سخت پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلائمیٹ سپورٹ لیوی، ایف بی آر کی خود مختاری اور ریونیو شیئرنگ جیسے نئے مالیاتی ماڈلز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ اقدامات مؤثر طور پر نافذ ہو گئے تو حکومت کو نہ صرف اربوں روپے کی بچت حاصل ہو سکتی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بجٹ خسارے میں کمی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ کمیٹی آئندہ مالی سال کی معاشی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔








