بجٹ 2026-27: الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات، روایتی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو خصوصی مراعات دینے اور روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر اضافی کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ایندھن کی درآمدی لاگت کم کرنا اور ملک میں صاف توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف ٹیکس مراعات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ تجویز کے تحت الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی موٹرز، بیٹریوں اور دیگر اہم پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی کم کرکے صرف ایک فیصد مقرر کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مقامی صنعت کو ترقی مل سکے اور صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیاں نسبتاً سستی دستیاب ہوں۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم ان تمام مراعات پر عملدرآمد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے مشروط ہوگا، کیونکہ حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
دوسری جانب حکومت روایتی پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے کاربن لیوی نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق 2000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں پر 10 فیصد سے 19.5 فیصد تک اضافی لیوی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے بڑی اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
حکومت درآمدی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر مرحلہ وار اضافی ٹیرف متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران قومی خزانے کو 142 ارب روپے سے زائد اضافی آمدن بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں حکومت کی توجہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر مرکوز ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کو خصوصی رعایت دینے کا امکان کم ہے۔ البتہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس نظام برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اور فروخت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی بلکہ ایندھن کی درآمدات پر انحصار بھی بتدریج کم ہو سکے گا۔








