خیبرپختونخوا میں عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 4 روز میں 99 غیر قانونی طبی مراکز سیل

خیبرپختونخوا میں عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 4 روز میں 99 غیر قانونی طبی مراکز سیل

پشاور:عارف اکرام

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے عطائیوں اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران مختلف اضلاع میں 572 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 99 غیر قانونی مراکز کو سیل کر دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق معائنے کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 241 طبی مراکز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ کارروائیاں صوبے کے مختلف اضلاع بشمول پشاور، سوات، صوابی، ملاکنڈ، بونیر، ایبٹ آباد، بنوں، دیر اپر اور دیر لوئر میں کی گئیں۔

عزم رحمان نے بتایا کہ تمام کارروائیاں خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015 اور اینٹی کویکری ریگولیشنز 2022 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ ان قوانین کا مقصد غیر تربیت یافتہ اور غیر مجاز افراد کی جانب سے طبی خدمات کی فراہمی کا خاتمہ اور عوام کو محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عطائیت عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے تدارک کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔ غیر قانونی کلینکس، میڈیکل سینٹرز اور دیگر طبی مراکز کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

ترجمان کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن نے غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں معائنے اور نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ علاج معالجے کے لیے صرف رجسٹرڈ اور مستند طبی مراکز سے رجوع کریں اور کسی بھی مشکوک یا غیر قانونی طبی مرکز کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

More News