پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ گئی، ایک سال میں 8 لاکھ شہری بیرون ملک گئے

پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ، ایک سال میں 8 لاکھ پاکستانی روزگار کی تلاش میں بیرون ملک منتقل

اسلام آباد:ویب ڈیسک

قومی اقتصادی سروے 2025-26 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں گزشتہ ایک سال کے دوران 8 لاکھ پاکستانی بیرون ملک چلے گئے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں مجموعی غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گئی ہے، جو معاشی دباؤ اور بڑھتی مہنگائی کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی سطح پر بلوچستان 47 فیصد شرح کے ساتھ ملک کا سب سے زیادہ غربت زدہ صوبہ قرار پایا ہے۔ خیبرپختونخوا 35.3 فیصد کے ساتھ دوسرے، سندھ 32.6 فیصد کے ساتھ تیسرے جبکہ پنجاب 23.3 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں تعلیم کے شعبے میں کچھ مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے اور قومی سطح پر شرح خواندگی 63 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم غربت میں اضافے کے باعث معاشی اور سماجی چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔

دستاویز کے مطابق روزگار کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 8 لاکھ افراد نے مختلف ممالک کا رخ کیا، جن میں سب سے زیادہ 5 لاکھ 30 ہزار پاکستانی سعودی عرب گئے۔ قطر جانے والوں کی تعداد 68 ہزار جبکہ متحدہ عرب امارات جانے والوں کی تعداد 52 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ برطانیہ اور عمان جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔

اقتصادی سروے میں توانائی اور پیداواری شعبوں کی صورتحال بھی بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قدرتی گیس اور خام تیل کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کوئلے کی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح لوہے کے خام مال کی پیداوار میں 41 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے صنعتی اور معدنی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق غربت کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے

More News