امریکا، ایران کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالث ممالک متحرک، حملوں میں وقفہ

امریکا، ایران کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالث ممالک متحرک، حملوں میں وقفہ

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ بڑے تصادم سے بچنے کیلئے مختلف ثالث ممالک سفارتی سطح پر متحرک ہوگئے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرانے کیلئے پاکستان، قطر، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب اہم سفارتی رابطے کر رہے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہیں کیا، جسے سفارتی کوششوں کا ابتدائی مثبت نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور قطر نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں فریقوں نے وقتی طور پر فوجی کارروائیوں سے گریز کیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ دیگر علاقائی ممالک بھی اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ثالث ممالک کی خواہش ہے کہ پہلے سے جاری مفاہمتی عمل مکمل طور پر ناکام نہ ہو اور دونوں فریق ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

ایگزیوس کے مطابق پاکستان، قطر، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے امریکی حکام سے مختلف سطحوں پر رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا، جنگ کے خطرات کو محدود کرنا اور ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ مذاکرات کے دوران جوہری معاہدے سے متعلق کئی اہم معاملات پر قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی تھی، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔ ثالث ممالک اب اسی پیش رفت کو بنیاد بنا کر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خطے میں مکمل جنگ سے گریز کے خواہاں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کو اپنی اہم ترجیح سمجھتی ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے عالمی توانائی کی ترسیل وابستہ ہے۔ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید کمی آ سکتی ہے اور دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی راہ اختیار کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں امن و استحکام کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔

More News