قبائلی اضلاع میں ٹیکس مسترد، فیصلہ واپس نہ ہوا تو احتجاجی تحریک چلائیں گے، تاجر تنظیمیں
خیبر: ضلع خیبر کی مختلف تاجر تنظیموں نے قبائلی اضلاع پر وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تیراہ، باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل کے تاجر مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
لنڈی کوتل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی، صنعتکار شاہ خالد آفریدی، باڑہ بازار تاجر یونین کے صدر سید ایاز، تیراہ بازار کے صدر شیر افگن، لنڈی کوتل کے تاجر رہنما رفیع الدین اور دیگر مقررین نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں ٹیکسوں کا نفاذ پہلے سے مشکلات کا شکار عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے بازار ویران، صنعتیں بند، بے روزگاری میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال کاروباری سرگرمیوں کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ تیراہ کے ہزاروں خاندان بدامنی کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان حالات میں نئے ٹیکس عائد کرنا ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدے، جن میں این ایف سی ایوارڈ سمیت آئینی اور مالی حقوق شامل تھے، تاحال پورے نہیں کیے گئے۔ ان کا الزام تھا کہ وفاق میں قبائلی اضلاع کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے کے باعث ٹیکس بل منظور ہوا، جبکہ صوبائی حکومت بھی قبائلی عوام کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔
صنعتکار شاہ خالد آفریدی نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع میں امن، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، طورخم بارڈر کو مستقل بنیادوں پر تجارت کے لیے کھولا جائے اور بند صنعتوں کو فوری ریلیف دیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
باڑہ بازار تاجر یونین کے صدر سید ایاز نے کہا کہ قبائلی عوام نے دوبارہ آبادکاری کے لیے اپنی جائیدادیں اور زیورات تک فروخت کیے، مگر اب انہیں نئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک شدت اختیار کر سکتی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع پر عائد تمام نئے ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں، بصورت دیگر تیراہ، باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل کے تاجروں کی مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔








