پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ کول پاور پلانٹ چلانے سے روک دیا، ماحولیاتی رپورٹ طلب

پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ کول پاور پلانٹ چلانے سے روک دیا، ماحولیاتی رپورٹ طلب

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ میں سیمنٹ فیکٹری کی جانب سے نصب کیے گئے کول پاور پلانٹ کے خلاف دائر درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک پلانٹ چلانے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فریقین ماحولیاتی تحفظ ایجنسی سے آپریشن کے بعد کی لازمی منظوری حاصل کیے بغیر کول پاور پلانٹ نہیں چلا سکتے اور عدالت کے احکامات کے پابند رہیں گے۔

حکم نامے کے مطابق درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کول پاور پلانٹ کے قیام اور ممکنہ آپریشن سے مقامی آبادی کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور منصوبہ ماحولیاتی قوانین کے تحت مقررہ حدود سے زیادہ آلودگی پھیلا رہا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی ٹیم نے جنوری 2026 میں منصوبے کا دورہ کیا تھا، تاہم اس وقت کول پاور پلانٹ زیر تعمیر تھا اور فعال نہیں تھا۔ ایجنسی کے مطابق منصوبے کے لیے ابتدائی ماحولیاتی جانچ کی منظوری تو دی جا چکی ہے، لیکن آپریشن کے بعد کی منظوری تاحال جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے لیے درخواست دی گئی ہے۔

عدالت نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر (لیگل) کو ہدایت کی کہ ایک معائنہ ٹیم تشکیل دے کر درخواست گزاروں کے نمائندے کی موجودگی میں کول پاور پلانٹ کا متعلقہ قوانین کے مطابق معائنہ کیا جائے اور پندرہ روز کے اندر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کول پاور پلانٹ سے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

More News