جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اثرات پورے خطے کے ممالک تک پہنچیں گے، ترجمان ایرانی افواج

جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو پورا خطہ متاثر ہوگا، ترجمان ایرانی افواج کی امریکا اور اتحادیوں کو سخت وارننگ

ایرانی افواج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی صورتحال کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادی ممالک پر عائد ہوگی، جن کی پالیسیوں سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایرانی افواج کی مشترکہ کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا اشتعال انگیز کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ترجمان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کا عسکری یا عملی تعاون جنگ میں براہِ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک نے امریکی اقدامات میں معاونت فراہم کی تو ایران اسے اپنے خلاف کارروائی کا حصہ سمجھے گا اور اس کے مطابق ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی اجازت کے بغیر اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی آمدورفت یا انتظامی مداخلت قابل قبول نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں امریکی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ترجمان ایرانی افواج نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اگر اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

More News