چین کا آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی پر اظہار تشویش، یورپی ممالک کو بھی تنبیہ

چین کا آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی پر اظہارِ تشویش، امریکا و ایران سے محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

بیجنگ: چین نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنائیں۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ خلیجی خطے میں تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریق تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوشش کریں۔

ترجمان نے بتایا کہ چین نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر متعلقہ ممالک کے سامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے اور واضح کیا ہے کہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، آزادانہ بحری آمدورفت اور خطے میں امن و استحکام کی حمایت کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی فیصلوں کی غیر مشروط حمایت سے گریز کریں۔ ترجمان کے مطابق یورپی ممالک کو اپنے بیانات اور اقدامات میں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے اور چین و یورپی یونین کے تعلقات بھی متاثر نہ ہوں۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید ہوا دیں۔ اس کے بجائے تمام فریقوں کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ چین نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام متعلقہ ممالک سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی اپیل کرتا ہے۔

More News