سونے کی قیمتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ عالمی منڈی سے اہم اشارے سامنے آگئے
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود تقریباً 4,010 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم رہی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا رخ عالمی سیاسی حالات اور امریکی مالیاتی پالیسی پر منحصر ہوگا۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق گزشتہ ہفتے سونے کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار دوبارہ سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سونے کی قیمت پر دو بڑے عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی شرح سود سے متعلق آئندہ فیصلے سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے، تاہم اگر فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو سونے پر دباؤ بڑھنے اور قیمتوں میں کمی آنے کا امکان موجود ہے۔
سرمایہ کاروں اور مارکیٹ ماہرین کی نظریں اب امریکی مالیاتی پالیسی، عالمی سیاسی حالات اور معاشی اشاریوں پر مرکوز ہیں، جو سونے کی قیمتوں کے اگلے رجحان کا تعین کریں گے۔







