خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچا دی، حادثات میں 14 افراد جاں بحق، الرٹ جاری

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے تباہی، 14 افراد جاں بحق، پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ جاری کر دیا

پشاور: خیبرپختونخوا میں 19 جولائی سے جاری مون سون بارشوں نے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی ہے۔ شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور دیگر حادثات کے نتیجے میں اب تک کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، حساس مقامات سے دور رہنے اور موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 28 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 6 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ دیگر گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان اور بونیر شامل ہیں، جہاں مختلف مقامات پر مکانات گرنے، برساتی نالوں میں طغیانی اور دیگر حادثات پیش آئے۔ متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت صوبے کے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا تو نشیبی علاقوں اور پہاڑی ندی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 23 جولائی تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے تیز بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اسی دوران گلگت بلتستان، مری، گلیات، کشمیر اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے، جس سے اہم شاہراہوں کی بندش اور آمدورفت میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، دریاؤں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے علاقوں سے دور رہیں اور سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے پہلے موسمی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کے ٹول فری نمبر 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ حکام نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

More News