پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی
اسلام آباد: پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو سخت احتجاج اور ملک گیر ہڑتال کی وارننگ دے دی ہے۔ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اپنی معاشی اور ٹیکس پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ملک بھر میں کسی بھی وقت ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے گڈز ٹرانسپورٹرز کے آپریٹنگ اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ کرایوں اور دیگر اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور جلد مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے، جس میں ملک گیر ہڑتال بھی شامل ہو سکتی ہے۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ملکی سپلائی چین کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد ٹرانسپورٹرز بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ کئی چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ٹرانسپورٹ کا شعبہ جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس میں حالیہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس کے علاوہ موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس کے جرمانوں میں بھی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر پر مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متعدد بار مذاکرات اور مطالبات کے باوجود ٹرانسپورٹرز کو کوئی مؤثر ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔
ملک شہزاد اعوان نے پاکستان بھر کی چیمبرز آف کامرس، فیڈریشنز اور کاروباری تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرانسپورٹ کا شعبہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹرز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملکی تجارت، صنعت، درآمدات و برآمدات اور عام صارفین بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل مالی نقصان برداشت کر کے خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ حالیہ معاشی حالات، مہنگائی اور جنگی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور دیگر ٹیکسوں کا نفاذ ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے حکومت کو یاد دلایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ٹرانسپورٹرز سے متعدد وعدے کیے تھے، جن میں ٹیکسوں میں ریلیف، آپریٹنگ اخراجات میں کمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی شامل تھی، تاہم ان وعدوں پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنے وعدے پورے کرے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹرز احتجاج اور ملک گیر ہڑتال سمیت تمام آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔








