عالمی برادری اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے فائدہ اٹھائے، اسحاق ڈار کا ایس سی او اجلاس سے خطاب
چولپون آتا: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے پیدا ہونے والے سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کی پالیسی کو ترجیح دی ہے اور یہی اصول دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 47 برس بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے بحال ہوئے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی اسی مثبت عمل کا حصہ تھے، جس نے کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے نئے امکانات پیدا کیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس پیش رفت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کے مستقل اور پُرامن حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی بین الاقوامی تنازعات کے حل کا قابلِ اعتماد اور پائیدار راستہ ہیں۔
اسحاق ڈار نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان طالبان کو اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں، جبکہ افغان طالبان ان عناصر کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے ایس سی او کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان کو انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس سی او گزشتہ برسوں میں ایک مضبوط علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے، جہاں رکن ممالک کے درمیان تجارت، اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط اور باہمی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اب صرف سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں بلکہ معیشت، ثقافت، رابطہ کاری اور امن کے فروغ کا ایک جامع فورم بن چکی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایس سی او کے رکن ممالک باہمی تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی جیسے مشترکہ خطرات کے خلاف متحد ہو کر مؤثر حکمت عملی اپنائیں گے، تاکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔








