صادق آباد میں کھلے مین ہول میں گر کر 16 سالہ ذہنی معذور لڑکی جاں بحق
صادق آباد: پنجاب کے شہر صادق آباد میں بلدیاتی غفلت ایک بار پھر انسانی جان لے گئی، جہاں کھلے مین ہول میں گرنے سے 16 سالہ ذہنی معذور لڑکی جاں بحق ہوگئی۔ افسوسناک واقعہ اسلم ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا، جس نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کو غمزدہ کر دیا، جبکہ شہریوں میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق 16 سالہ لڑکی گھر کے قریب موجود تھی کہ اچانک کھلے مین ہول میں جا گری۔ اہلِ علاقہ نے شور سن کر فوری طور پر ریسکیو 1122 اور پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائی شروع کی۔ کافی کوششوں کے بعد لڑکی کو مین ہول سے نکالا گیا، تاہم وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والی لڑکی ذہنی معذور تھی اور حادثاتی طور پر مین ہول میں گر گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مین ہول مناسب طریقے سے بند ہوتا تو یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کی غفلت کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حادثے کے بعد پولیس نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں ضابطے کی کارروائی کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں شہری بھی موقع پر جمع ہوگئے اور کھلے مین ہولز کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد مین ہولز عرصہ دراز سے کھلے پڑے ہیں، جن کے باعث پہلے بھی کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں، مگر متعلقہ حکام نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ تمام کھلے مین ہولز کو فوری طور پر ڈھانپا جائے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف آفیسر بلدیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب متعلقہ بلدیہ اہلکار کو معطل کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر مزید کسی اہلکار کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ افسوسناک واقعہ شہری علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی مناسب دیکھ بھال اور مؤثر نگرانی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی اقدامات بروقت کیے جائیں تو مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔








