نورین نیازی کے خلاف پیکا اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن نورین نیازی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد میں پیکا 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ ایک پوڈکاسٹ انٹرویو اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی بنیاد پر درج کیا گیا، جس میں ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیانات دیے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران پاکستان کی ریاست اور اس کے مختلف اداروں، بشمول مسلح افواج، کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ تفتیشی ادارے کا مؤقف ہے کہ ان بیانات کا مقصد عوام میں ریاستی اداروں پر اعتماد کو متزلزل کرنا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا تھا۔
دستاویزات کے مطابق ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، اشتعال انگیز، توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد پھیلایا، جس سے ریاستی اور سکیورٹی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ مواد کے اثرات اور اس کے پھیلاؤ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق نورین نیازی کے خلاف پیکا 2016 کی دفعات 20 اور 26-A جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ پوڈکاسٹ انٹرویو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مختلف اکاؤنٹس سے شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوا، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے اس کا نوٹس لیا۔
ایف آئی آر میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وائرل ہونے والے مواد میں معرکۂ حق کے دوران افواجِ پاکستان کی کامیابیوں سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن بیانیہ پیش کیا گیا، جس سے عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق نورین نیازی کو متعدد مرتبہ نوٹس جاری کیے گئے تاکہ وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں اور تفتیش میں شامل ہوں، تاہم ایف آئی آر میں درج مؤقف کے مطابق ابتدائی شواہد کی بنیاد پر بادی النظر میں جرم ثابت ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور دورانِ تفتیش اگر کسی دوسرے فرد یا کردار کا تعلق سامنے آیا تو قانون کے مطابق اس کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی پیش رفت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مقدمہ درج ہونا الزامات کا اندراج ہے، جبکہ کسی بھی شخص کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔
Hashtags:








