الزام سے کچھ نہیں ہوگا، بلاول اپنے بیانیے اور کارکردگی پر مزید محنت کریں: مریم نواز
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سیاست میں صرف الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، عوام کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں، اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنے بیانیے اور عملی کارکردگی پر مزید توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ گفتگو آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کی۔
مریم نواز نے میرپور ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے پارٹی قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جو پارٹی کی عوامی خدمت اور ترقیاتی سیاست کا اعتراف ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس کامیابی کا اصل سہرا پارٹی قیادت اور کارکنوں کی مسلسل محنت کو جاتا ہے، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران بھرپور انداز میں عوام سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور عملی اقدامات کی سیاست کو فروغ دیا ہے، جس کا ثمر انتخابی نتائج کی صورت میں سامنے آیا۔
پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران نامناسب زبان استعمال کی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی کے جلسوں میں عوامی شرکت بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو دوسروں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی سیاسی حکمت عملی اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 17 برس سے پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، لیکن اس کے باوجود بلاول بھٹو عوام کے سامنے کوئی ایسا بڑا ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کر سکے جو ان کی کارکردگی کی واضح مثال بن سکے۔ ان کے مطابق عوام اب نعروں کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام ٹوٹی ہوئی سڑکوں، ناکافی صحت کی سہولیات اور بنیادی مسائل کے حل کے خواہاں ہیں اور وہ پنجاب کی طرز پر ترقیاتی منصوبوں اور بہتر عوامی خدمات چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے کسان کارڈ، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر فلاحی منصوبوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ موجودہ دور ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کا دور ہے، جہاں حقائق اور کارکردگی آسانی سے عوام کے سامنے آ جاتی ہے، اس لیے صرف الزامات لگا کر سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے فیصلے کا احترام ضروری ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کھلے دل سے قبول کرنے چاہییں۔







