مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
سیول: جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے دنیا کی معروف میموری چپ بنانے والی کمپنی ایس کے ہائنکس (SK Hynix) کے چیئرمین چی تے وون کی طلاق کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اپنی سابقہ اہلیہ رو سو یونگ کو طلاق کے تصفیے کے طور پر 644 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کو جنوبی کوریا کی تاریخ کے مہنگے ترین طلاقی تصفیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے چی تے وون کی اپیل پر سماعت کے بعد اس سے قبل سیول ہائی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ 940 ملین ڈالر کی رقم میں کمی کرتے ہوئے ادائیگی 644 ملین ڈالر مقرر کی۔ ہائی کورٹ نے 2024 میں سابقہ اہلیہ کے حق میں بڑا مالی تصفیہ سنایا تھا، جس کے خلاف ارب پتی کاروباری شخصیت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ رو سو یونگ کو جوڑے کے مشترکہ ازدواجی اثاثوں میں تقریباً ایک تہائی حصہ نقد رقم کی صورت میں دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے مجموعی رقم میں کمی ضرور کی، تاہم سابقہ اہلیہ کے مالی حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں بھاری معاوضہ دینے کا حکم برقرار رکھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ نہ صرف جنوبی کوریا بلکہ دنیا کے مہنگے ترین طلاقی مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا نے اسے گزشتہ ایک صدی کی سب سے مہنگی طلاق قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں، کیونکہ دونوں فریق قانونی تقاضوں کے تحت مزید اپیل کا حق رکھتے ہیں۔
چی تے وون اور رو سو یونگ کی شادی 1988 میں ہوئی تھی۔ رو سو یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر رو تے وو کی صاحبزادی ہیں۔ ازدواجی اختلافات کے بعد چی تے وون نے 2017 میں ثالثی کی کوشش ناکام ہونے پر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کے بعد 2022 سے یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا اور کئی اہم قانونی مراحل سے گزرا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے نے جنوبی کوریا میں خاندانی قوانین، ازدواجی اثاثوں کی تقسیم اور کارپوریٹ شخصیات کی طلاق سے متعلق قانونی مباحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اس مقدمے کو مستقبل میں اسی نوعیت کے مقدمات کے لیے ایک اہم قانونی نظیر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔








