عظمیٰ بخاری کی بلاول بھٹو پر تنقید، عوامی فیصلوں کا احترام کرنے کا مطالبہ
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے ترقی، کارکردگی اور جدید طرز حکمرانی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو عوامی فیصلے کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بعد بعض سیاسی جماعتیں شکست کے باعث ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران متعدد عوامی فلاحی منصوبے شروع کیے، جن کے نتائج عوام کے سامنے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولیات کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام نے بھی انہی ترقیاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کامیاب بنایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے ترقی اور استحکام کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں عوامی مینڈیٹ کا احترام بنیادی اصول ہونا چاہیے اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ کئی برسوں سے سندھ میں برسراقتدار ہے، لیکن کراچی سمیت مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ، صفائی، بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو اپنی کارکردگی پر اعتماد ہے تو وہ عوام کے سامنے اپنے ترقیاتی منصوبے پیش کرے۔
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں جدید گرین بس سروس، تعلیمی وظائف، لیپ ٹاپ اسکیم، جنوبی پنجاب کے لیے خصوصی پروگرام، جدید مشینری سے لیس واسا، ایئر ایمبولینس سروس اور دیگر عوامی منصوبے حکومت کی کارکردگی کا عملی ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف الزامات لگانے کے بجائے اپنی جماعت کی کارکردگی پر بھی بات کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق عوام سیاسی بیانات سے زیادہ عملی اقدامات کو اہمیت دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ووٹرز نے اپنی رائے ووٹ کے ذریعے واضح کر دی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر عظمیٰ بخاری نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے اور سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔







