نئے صوبوں کے قیام پر اہم پیش رفت؟ طلال چوہدری نے انتظامی اصلاحات پر زور دے دیا
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر انتظامی نظام کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور گورننس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی نہیں بلکہ انتظامی نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ملک کے کسی حصے میں آبادی، رقبے یا انتظامی ضروریات کے باعث عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے تو اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور تیز رفتار سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ اختیارات تو ملے، تاہم پنجاب کے علاوہ دیگر صوبے عوام کی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے اور موجودہ نظام میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومتی نظام مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کا مقصد کسی بھی صوبے کے اختیارات کم کرنا یا موجودہ نظام کو تبدیل کرنا نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام تک سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق محسن نقوی کا مقصد صرف یہ تھا کہ انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جائے، نہ کہ موجودہ صوبائی نظام کو ختم کیا جائے۔
وزیر مملکت نے یاد دلایا کہ پنجاب اسمبلی ماضی میں نئے صوبوں کے حق میں قراردادیں منظور کر چکی ہے، تاہم مستقبل میں اگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ مکمل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے ہر فیصلہ عوامی مفاد، انتظامی ضرورت اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، نہ کہ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہتر گورننس، شفاف انتظامی نظام اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل بیٹھ کر قابلِ عمل تجاویز پر غور کرنا چاہیے تاکہ ملک کے انتظامی نظام کو مزید مضبوط، فعال اور عوام دوست بنایا جا سکے۔








