اسلام آباد ہائیکورٹ: سرکاری مشینری سیاسی احتجاج میں استعمال نہیں ہوگی

اسلام آباد ہائیکورٹ: سرکاری مشینری سیاسی احتجاج میں استعمال نہیں ہوگی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔

عدالت نے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ سرکاری مشینری کو کسی سیاسی جماعت کے احتجاج یا لانگ مارچ میں استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ کسی سرکاری افسر کو احتجاج یا ریلی میں شرکت کے لیے زبردستی کی جائے تو وہ فوری طور پر چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کرے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شرکت سے روکیں۔ صوبوں کے چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جیز کو فوری ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت میں پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال ہوئی اور اسلام آباد میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

عدالت نے دورانِ سماعت استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی یا دیگر حکومتی عہدیدار اشتعال انگیز بیانات دے سکتے ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ پرامن احتجاج کا حق موجود ہے، تاہم یہ حق قانون اور آئینی حدود کے تابع ہے۔

عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا سے بھی استفسار کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا اسے روکا جائے گا۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے یقین دہانی کرائی کہ غیر قانونی اقدام کی صورت میں اسے روکا جائے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیر آئینی اجتماع کی صورت میں اسے روکا جائے اور مظاہرین کو منتشر کیا جائے، جس کے بعد عدالت نے شہری کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔

More News