حکومت کا پٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ، ڈیزل سستا کرنے پر غور

حکومت کا پٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ، ڈیزل سستا کرنے پر غور

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم شعبے میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرتے ہوئے پٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں مسابقتی ماحول کو فروغ دینا، قیمتوں کے تعین کے نظام کو زیادہ شفاف بنانا، صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور بالخصوص ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل کے موجودہ کریک اسپریڈ کو 70 ڈالر فی بیرل سے کم کر کے 35 سے 40 ڈالر فی بیرل تک لانے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے مستقبل میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پہلے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں کا جائزہ لینے کا نظام اختیار کیا تھا، جبکہ اب اس کے اگلے مرحلے میں پورے پٹرولیم سیکٹر کو بتدریج آزاد مسابقتی نظام کی طرف منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق IFEM (Inland Freight Equalization Margin) اصلاحات کے تحت ملک بھر میں موجود پیٹرولیم ڈپو پوائنٹس کی تعداد 22 سے کم کر کے 11 کرنے کی سفارش بھی زیر غور ہے۔ اس اقدام سے سپلائی چین کو زیادہ مؤثر، کم لاگت اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ لاجسٹک اخراجات میں کمی کے باعث صارفین کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

سرکاری حکام نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں ہائی آکٹین بلینڈڈ کمپوننٹ کی قیمتیں پہلے ہی ڈی ریگولیٹڈ ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ایک دوسرے سے مسابقت کرتی ہیں۔ اس مسابقت کی وجہ سے نہ صرف صارفین کو بہتر خدمات مل رہی ہیں بلکہ قیمتوں میں بھی مقابلے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اسی ماڈل کو دیگر پٹرولیم مصنوعات پر بھی بتدریج نافذ کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں ٹیلی کام سیکٹر کی مثال بھی پیش کی گئی، جہاں لبرلائزیشن اور مسابقتی نظام کے نفاذ کے بعد صارفین کو کم نرخ، بہتر معیار کی خدمات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوئی۔ حکام کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت اپنا کردار صرف ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی وصولی تک محدود رکھے اور قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی مسابقت پر چھوڑ دے تو اس سے صارفین کو زیادہ انتخاب، بہتر معیار اور مناسب قیمتوں کا فائدہ مل سکتا ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹیوں نے اپنی سفارشات پیش کیں جبکہ عالمی آڈٹ فرم KPMG نے خطے کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکس ڈھانچے اور ریگولیٹری ماڈلز کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔

شرکاء نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فارمولے، شفافیت بڑھانے اور غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے مجوزہ اقدامات کو سراہا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا کی ویب سائٹ پر ایک جدید ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، قیمتوں کے تعین کا فارمولا اور متعلقہ Platts ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس موقع پر زور دیا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا پابند بنایا جائے تاکہ شفافیت، ٹریس ایبلٹی، کارکردگی اور جوابدہی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی (مورٹوریم)، IFEM Pool نظام پر نظرثانی اور ونڈ فال ٹیکس سے متعلق مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پٹرولیم ڈویژن آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے جامع رپورٹ پیش کریں گے تاکہ پٹرولیم شعبے میں اصلاحات کا عمل مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

More News

Breaking

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کا معاملہ، ہسپتال انتظامیہ کا ینٹی کرپشن کو تحقیقات معطل کرنے کے لیےخط

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات مؤخر کرنے کی درخواست پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں مبینہ غیر

Read More »