حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کا معاملہ، ہسپتال انتظامیہ کا ینٹی کرپشن کو تحقیقات معطل کرنے کے لیےخط

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات مؤخر کرنے کی درخواست

پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا سے جاری تحقیقات کو عارضی طور پر معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکرٹری بورڈ آف گورنرز کی جانب سے اینٹی کرپشن حکام کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اس وقت متعلقہ ریکارڈ، اہم دستاویزات اور دیگر شواہد اکٹھا کرنے کے عمل میں مصروف ہے، اس لیے تحقیقات کو فوری طور پر جاری رکھنا انتظامی امور میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

خط میں اینٹی کرپشن حکام سے استدعا کی گئی ہے کہ تحقیقات کو کم از کم 10 روز کے لیے مؤخر کیا جائے تاکہ اسپتال انتظامیہ تمام مطلوبہ ریکارڈ، بھرتیوں سے متعلق دستاویزات اور دیگر ضروری معلومات کو مکمل طور پر مرتب کرکے تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مکمل ریکارڈ کی فراہمی سے تحقیقات زیادہ شفاف، مؤثر اور حقائق پر مبنی انداز میں آگے بڑھ سکیں گی۔

واضح رہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر چکی ہے۔ اس دوران مختلف ریکارڈ اور بھرتیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا تقرریاں میرٹ اور قانونی ضابطوں کے مطابق کی گئیں یا نہیں۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی قسم کی معلومات یا دستاویز چھپانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انتظامیہ کے مطابق صرف ریکارڈ کو منظم کرنے اور تمام متعلقہ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے محدود مہلت درکار ہے تاکہ تحقیقاتی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ یا ابہام پیدا نہ ہو۔

اب یہ فیصلہ اینٹی کرپشن حکام کریں گے کہ آیا اسپتال انتظامیہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے تحقیقات کو 10 روز کے لیے مؤخر کیا جاتا ہے یا پہلے سے جاری تحقیقاتی عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھا جاتا ہے۔

More News