پی ٹی آئی یوتھ ونگ نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کر دی
پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) یوتھ ونگ کے ضلعی عہدیداروں نے اپنی ہی صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں نے پارٹی کارکنوں کی توقعات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے جس بیانیے کے لیے جدوجہد کی، وہ اب پس منظر میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
یوتھ ونگ کے عہدیداروں نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن، محسن نقوی اور گورنر فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا حکومت کو سہارا دے رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت بھی ان کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کا وہ مؤقف کہاں چلا گیا، جس کے لیے کارکنوں نے قربانیاں دیں۔ ان کے مطابق پارٹی کارکنوں کی طویل جدوجہد اور محنت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد جلسوں کے انعقاد سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، بلیو پاسپورٹ اور پیٹرول کی قیمتوں جیسے معاملات پر محض سیاسی بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
یوتھ ونگ کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر کارکنوں کے تحفظات کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ کے فیصلے سڑکوں پر کیے جائیں گے۔








