سندھ میں 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران 729 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص، ماہرین نے صورتحال تشویشناک قرار دے دی
کراچی: سندھ میں رواں سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 729 بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کی تشخیص ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد ماہرین صحت نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں 90 فیصد سے زائد کا تعلق سندھ سے ہے، جو صوبے میں صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ 729 بچوں میں 447 لڑکے جبکہ 282 لڑکیاں شامل ہیں۔ ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں 125، فروری میں 117، مارچ میں 87، اپریل میں 121، مئی میں 108 جبکہ جون میں سب سے زیادہ 171 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ جون کے دوران کیسز میں نمایاں اضافہ ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے اور وہ اس رجحان کی وجوہات جاننے پر زور دے رہے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے تمام کیسز کو صرف ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ان کے مطابق غیر محفوظ انجیکشن، ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات، غیر معیاری طبی طریقہ کار، غیر رجسٹرڈ کلینکس اور بعض نجی طبی مراکز میں حفاظتی اصولوں پر عمل نہ ہونا بھی وائرس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان عوامل پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں متاثرہ بچوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین نے حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ نجی اور غیر رجسٹرڈ کلینکس کی سخت نگرانی کی جائے، تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے عالمی معیار پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی کے عمل کو مزید محفوظ بنایا جائے اور بچوں کی بڑے پیمانے پر ایچ آئی وی اسکریننگ شروع کی جائے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ والدین حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی معائنہ کرائیں۔
دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ایڈز کنٹرول پروگرام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم متعلقہ ادارے نے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف دینے یا مزید تفصیلی اعداد و شمار فراہم کرنے سے گریز کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں، طبی ماہرین اور حکومت کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ بچوں کو اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے اور مستقبل میں ایسے کیسز کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔








