محسن نقوی طاقتور ترین وزیر، کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں: خواجہ آصف

خواجہ آصف کا محسن نقوی سے متعلق بڑا بیان، ’’طاقتور ترین وزیر کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں‘‘

کراچی: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے اہم سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے سب سے طاقتور وزیر ہیں اور کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی اگر موجودہ نظام پر تنقید کر رہے ہیں تو پھر حکومت کو اپنی کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی اگرچہ وزیر داخلہ ہیں، تاہم وہ حکومتی نظام اور کابینہ کے معمول کے طریقہ کار کا فعال حصہ نظر نہیں آتے۔ ان کے بقول انہوں نے محسن نقوی کو کابینہ کے اجلاسوں میں صرف دو یا تین مرتبہ دیکھا ہے، جبکہ پارلیمنٹ میں بھی ان کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ محسن نقوی شاید سات یا آٹھ مرتبہ ہی پارلیمنٹ آئے ہوں گے، اس لیے اگر وہ موجودہ حکومتی نظام پر شکایت کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر حکومت کے اندر سے ہی اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو پھر “ہمیں گھر چلے جانا چاہیے۔”

خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے انتظامی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی نظام برقرار رہا تو آئندہ دس برس بعد بھی پاکستان کو انہی مسائل کا سامنا ہوگا اور ترقی کی رفتار متاثر رہے گی۔

محسن نقوی نے اس موقع پر ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی بوجھ اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ صوبائی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر گورننس، بہتر عوامی خدمات اور تیز رفتار ترقی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواجہ آصف کا بیان حکومتی صفوں میں موجود مختلف آراء کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب وزیر داخلہ انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیر دفاع نے ان کے کردار اور حکومتی معاملات میں ان کی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے کہ حکومت کے اندر پالیسی سازی اور فیصلوں کے طریقہ کار میں کس حد تک ہم آہنگی موجود ہے۔

More News