سپن وام سے دریافت ہونے والی گیس کی فروخت کے لیے بولی کا عمل مکمل، یومیہ 17.5 ملین مکعب فٹ گیس فروخت ہوگی
کراچی: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام سے دریافت ہونے والی قدرتی گیس کی تجارتی فروخت کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ماری انرجیز لمیٹڈ نے گیس کی فروخت کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر کا شفاف بولی کا عمل مکمل کرنے کے بعد کامیاب بولی دہندہ کو لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مقامی وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ ملے گا بلکہ ملک میں گیس کی فراہمی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
ماری انرجیز لمیٹڈ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے اعلامیے کے مطابق سپن وام گیس فیلڈ سے حاصل ہونے والی گیس کی فروخت کے لیے ٹینڈر 15 مئی 2026 کو جاری کیا گیا تھا۔ تمام قانونی اور تکنیکی مراحل مکمل کرنے کے بعد شفاف بولی کے عمل میں یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی کامیاب قرار پائی، جسے گیس کی خریداری کے لیے باضابطہ لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سپن وام گیس فیلڈ سے یومیہ 17.5 ملین مکعب فٹ (MMCFD) گیس فروخت کی جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گیس کی سپلائی اور فروخت حکومت پاکستان کی جانب سے 7 جنوری 2025 کو جاری کیے گئے “فریم ورک فار سیل آف گیس ٹو تھرڈ پارٹیز” کے تحت کی جائے گی، جس کا مقصد گیس کی منصفانہ تقسیم، شفاف تجارتی عمل اور توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق سپن وام گیس فیلڈ سے گیس کی تجارتی فروخت کا آغاز شمالی وزیرستان سمیت ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے قدرتی گیس کی دستیابی میں بہتری آئے گی، صنعتی شعبے کو اضافی ایندھن میسر ہوگا اور توانائی کے بحران میں کسی حد تک کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی گیس کے نئے ذخائر سے پیداوار بڑھنے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی وسائل کے مؤثر استعمال سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
حکومتی پالیسی کے مطابق تیسرے فریق کو گیس فروخت کرنے کے نظام سے توانائی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ ملے گا، جبکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسی طرز پر دیگر گیس فیلڈز کی پیداوار کو بھی مارکیٹ میں لایا گیا تو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری اور اقتصادی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے








