سوات کبل خودکش دھماکہ، دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
سوات: ضلع سوات کے علاقے کبل میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-ATA سمیت دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ایف آئی آر تھانہ کبل کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں واقعے کی ابتدائی تفصیلات اور شواہد کی بنیاد پر دہشت گردی کی کارروائی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق کبل چوک میں ایک احتجاجی مظاہرہ جاری تھا، جو شام چار بجے شروع ہوا۔ احتجاج کے دوران شام تقریباً 6 بج کر 4 منٹ پر تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ کے قریب زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار اور عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ حملہ علاقے میں سرگرم کالعدم تنظیم کے کمانڈر مظفر اور اس کے ساتھی دہشت گردوں کی کارروائی معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی نتائج جامع تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔ پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ فرانزک اور انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے سوات کا دورہ کیا اور سیدو شریف اسپتال پہنچ کر دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی۔ آئی جی نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی، ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اسپتال انتظامیہ سے علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی لی۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے بہترین علاج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور واقعے کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے حملے میں ملوث عناصر اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ذمہ دار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔








